خدارا اپنے آپ کو ہلاکت بچاؤ بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ ہفتے والے دن دریا سے مچھلیاں نہیں پکڑنےہیں مگر انہوں نے بہترین تدبیر کرنے والے رب کے ساتھ جب تدبیر آزمائی کی تو نشانِ عبرت بن گئے ہمیں بحیثیتِ مسلمان یہ معلوم ہے کہ جھوٹ بولنا بہت بڑا گناہ ہے مگر جھوٹ بولنا اب ہماری عادت بن چکی ہے اور ہم اس حد تک کو پہنچ گئے کہ اب جھوٹ بولنا ہمیں گناہ ہی نظر نہیں آتا،ویسے تو ہم جھوٹ بولتے رہتے ہیں مگر اس جھوٹ سے جس سے ہم معاشرے میں بدنام ہو سکتے ہیں اور جھوٹا تصور کیے جاسکتے ہیں بچ بھی گئے تو اپنے آپ پر غرور کرتے ہیں ہمارا لمحہ لمحہ جھوٹ پر مبنی ہے مگر ہم اپنے آپ کو سچے کہنے سے تھکتے نہیں، ہم سچا بننے کی بجائے لوگوں کو باور کرا رہے ہوتے ہیں کہ ہم سچے ہیں، مگر ہم سچ کے صرف دعویدار ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ صدیاں بیت چکی ہیں صدق کو ہم سے رخصت ہوتے ہوئے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے ان غیور لوگوں پر جو کہتے ہیں کہ فحاشی و عریانی اور جھوٹ کا عام ہونا کفار کی تدبیرہے،کفار کی پلاننگ ہے ہاں ہوگا! مگر جب یہ سب کچھ جاننے کے باوجود ب...
دوستی کے اسلوب رواجِ زمانہ بن چکا ہے کہ جب ہم دو دوست آپس میں ملتے ہیں تو ایک دوسرے کا استقبال اعلی معیار کے گالیوں کے ساتھ کرتے ہیں اور دوسرا دوست بھی گالیوں کی لڑی کو ایسے الفاظ کے موتیوں سے پرو کر بغلگیر ہوتا ہے کہ اگر کوئی اورشخص ایسے الفاظ ہماری شان پر عائد کرتا تو ہم اس کو اس کے سات پشتوں تک بھی نہیں چھوڑتے ٹھیک ہے میں آپ کو یہ تو نہیں کہوں گا کہ گالیاں دینا بہت بڑا گناہ ہے وہ تو خود بھی آپ جانتے ہیں مگر مجھے افسوس ہوتا ہے جب آپ کے منہ مبارک سے یہ سنتا ہوں کے یار مجھے کوئی بہترین دوست نہیں ملتا،کسی پر بھی مجھے کوئی اعتماد نہیں،ہر کوئی مطلب پرست ہے دھوکہ باز ہے،مجھے کوئی مخلص دوست نہیں ملتا۔ میرے بھائی آپ کو بہترین دوست ملے گا کیسے؟جب آپ نے اپنے لاشعور میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ مجھے کسی پر بھی کوئی اعتماد نہیں جب آپ دوست کو مطلب پرستی کے ترازو میں تول رہے ہوتے ہیں،جب آپ دوست کے ساتھ زندگی کی مہریں کھیل رہے ہوتےہیں،جب آپ کسی کو کہہ رہے ہیں کہ آپ کے ساتھ میرا وقتی دوست...
صبر کیا ہے؟ جب آپ اندر سے ٹوٹ چکے ہوں آپ کو بہت زیادہ تکلیف پہنچی ہو اور اس عالم میں بھی اگر آپ کے لب سے آہ نکلنے کی بجائے "یااللہ تیرا شکر ہے " تو یقین جانیئے آپ صبر کے اس دہانے پر پہنچ گئے اور ان بندوں میں شمار ہونے والے ہیں جن کیلئے رب نے فرمایا" خوش خبری سنا دو صبر کرنے والوں کو " جب آپ کا دل کہے کہ شکوہ کر آہ و زاری کر اور آپ کی سوچ آپ کو غلط سوچنے پر مجبور کرے مگر پھر بھی آپ اپنے آپ کو اپنے رب کے سپرد کرتے ہیں اور اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت میں زندگی بسر کر تے ہیں تو گھبرانا نہیں بس تھوڑا اور صبر کرنا ایک لمحے کی تو بات ہے آپ عظیم انسان ہیں آپ اجر عظیم سے نوازے جانے والے ہو بس صبر کا دامن نہ چھوڑنا زندگی میں مزہ تب آئے گا جب آپ صبر کا دامن پکڑ کر اس قدر دور چلیں کہ راستے بھی حیران ہو جائیں اور آپ مثال بن جائیں مزہ تب ہے اور یاد رکھنا اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھ ہے جمشید
Comments
Post a Comment