دوستی کے اسلوب رواجِ زمانہ بن چکا ہے کہ جب ہم دو دوست آپس میں ملتے ہیں تو ایک دوسرے کا استقبال اعلی معیار کے گالیوں کے ساتھ کرتے ہیں اور دوسرا دوست بھی گالیوں کی لڑی کو ایسے الفاظ کے موتیوں سے پرو کر بغلگیر ہوتا ہے کہ اگر کوئی اورشخص ایسے الفاظ ہماری شان پر عائد کرتا تو ہم اس کو اس کے سات پشتوں تک بھی نہیں چھوڑتے ٹھیک ہے میں آپ کو یہ تو نہیں کہوں گا کہ گالیاں دینا بہت بڑا گناہ ہے وہ تو خود بھی آپ جانتے ہیں مگر مجھے افسوس ہوتا ہے جب آپ کے منہ مبارک سے یہ سنتا ہوں کے یار مجھے کوئی بہترین دوست نہیں ملتا،کسی پر بھی مجھے کوئی اعتماد نہیں،ہر کوئی مطلب پرست ہے دھوکہ باز ہے،مجھے کوئی مخلص دوست نہیں ملتا۔ میرے بھائی آپ کو بہترین دوست ملے گا کیسے؟جب آپ نے اپنے لاشعور میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ مجھے کسی پر بھی کوئی اعتماد نہیں جب آپ دوست کو مطلب پرستی کے ترازو میں تول رہے ہوتے ہیں،جب آپ دوست کے ساتھ زندگی کی مہریں کھیل رہے ہوتےہیں،جب آپ کسی کو کہہ رہے ہیں کہ آپ کے ساتھ میرا وقتی دوست...
تین دوست بیٹھے تھے ان میں ایک کے بال لمبے تھے تو ایک دوست نے لمبے بال والے سے کہا اپنے بال کٹوا دے اس نے کہا ابھی نہیں لیکن تیسرے دوست نے کہا اگر آپ مجھے پانچ سو روپے دینگے تو میری ذمہ داری ہے میں اس کے بال کٹواونگا جب دوسرے نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا ہاں اگر یہ کہے تو ۔۔۔ یہ کیا تھا اعتماد تھا دوست کا دوست کے اوپر یاد رکھنا جب شیطان نے طبل جنگ بجا کر کہا تھا کہ میں ابن آدم کو بہکاؤنگا تو خالق حقیقی نے بھی اپنے مخلوق پر اعتماد کر کے فر مایا جو میرے بندے ہونگے وہ تیرے بہکاوے میں نہیں آیئنگے آج اگر کوئی کسی کا ادنا سا اعتماد بھی توڑے تو اس کو کتنا غصہ آتا ہے نمک حرام اور نا جانے کن الفاظ سے اسکو نوازتا ہے ہر کسی سے کہتا پھرتا ہے کہ میں نے غلطی کی ہے اس پر اعتماد کر کے ارے تیرے رب نے بھی تیرے اوپر اعتماد کر کے شیطان کو چیلنج دیا جس طرح ایک بادشاہ کو اپنے پہلوان پر فخر ہو اور دوسروں کو چیلنج دے اور آپ خود سوچیں آپ نے اس اعتماد کا کتنا لاج رکھا اور پھر بھی اپنے رب سے شکوے کہ ہمارے ساتھ یہ کیوں،پر آپ اپنے مالک کے ساتھ ایسا کیوں کرتے ہیں آپ اپنے مالک کی نافرمانی بھی...
صبر کیا ہے؟ جب آپ اندر سے ٹوٹ چکے ہوں آپ کو بہت زیادہ تکلیف پہنچی ہو اور اس عالم میں بھی اگر آپ کے لب سے آہ نکلنے کی بجائے "یااللہ تیرا شکر ہے " تو یقین جانیئے آپ صبر کے اس دہانے پر پہنچ گئے اور ان بندوں میں شمار ہونے والے ہیں جن کیلئے رب نے فرمایا" خوش خبری سنا دو صبر کرنے والوں کو " جب آپ کا دل کہے کہ شکوہ کر آہ و زاری کر اور آپ کی سوچ آپ کو غلط سوچنے پر مجبور کرے مگر پھر بھی آپ اپنے آپ کو اپنے رب کے سپرد کرتے ہیں اور اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت میں زندگی بسر کر تے ہیں تو گھبرانا نہیں بس تھوڑا اور صبر کرنا ایک لمحے کی تو بات ہے آپ عظیم انسان ہیں آپ اجر عظیم سے نوازے جانے والے ہو بس صبر کا دامن نہ چھوڑنا زندگی میں مزہ تب آئے گا جب آپ صبر کا دامن پکڑ کر اس قدر دور چلیں کہ راستے بھی حیران ہو جائیں اور آپ مثال بن جائیں مزہ تب ہے اور یاد رکھنا اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھ ہے جمشید
Comments
Post a Comment